Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 3216
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : ألا لا تغالوا صدقة النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه و سلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه و سلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي
بھاری مہر کی ممانعت
حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا خبردار! عورتوں کا بھاری مہر نہ باندھو اگر بھاری مہر باندھنا دنیا میں بزرگی و عظمت کا سبب اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقوی کا موجب ہوتا تو یقینا نبی کریم ﷺ اس کے زیادہ مستحق تھے ( آپ ﷺ بھاری سے بھاری مہر باندھتے) مگر میں نہیں جانتا کہ رسول کریم ﷺ نے بارے اوقیہ سے زیادہ مہر پر اپنی ازواج مطہرات سے نکاح کیا ہو یا اس سے زیادہ مہر پر اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کرایا ہو ( احمد ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ دارمی)
تشریح
تقوی سے مراد زیادہ تقوی ہے اور آیت کریمہ ( اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ) 49۔ الحجرات 13) ( یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے بڑے مرتبے والا وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو کہ بموجب اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیاز عطا کرنیوالی بزرگی فضیلت کا مستحق بناتا ہے حاصل یہ کہ بھاری مہر باندھنے سے نہ صرف یہ کہ دنیا میں کوئی عظمت و بزرگی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ سے آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیازی بزرگی و فضیلت کا درجہ حاصل نہیں ہوگا اور جب اس کی وجہ سے نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہے اور نہ دین کا کوئی نفع تو پھر اس لا حاصل چیز کو کیوں اختیار کیا جائے ازواج مطہرات کے مہر کے سلسلہ میں تین روایتیں ہیں جو بظاہر متضاد معلوم ہوتی ہیں ایک تو حضرت عائشہ کی روایت ہے دوسری روایت یہ ہے کہ جس میں بارہ اوقیہ یعنی چار سو اسی درہم کی مقدار ذکر کی گئی ہے اور ایک روایت آگے آئے گی جس میں حضرت ام حبیبہ کے مہر کی مقدار چار ہزار درہم ذکر ہوگی ان تینوں روایتوں میں سے حضرت ام حبیبہ کے مہر والی روایت کو مستثنی سمجھنا چاہئے کیونکہ ان کا مہر آنحضرت ﷺ نے مقرر نہیں کیا تھا بلکہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے باندھا تھا اور نجاشی بادشاہ نے بھی اتنا زیادہ مہر محض آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم کے پیش نظر باندھا تھا۔ اب رہی حضرت عائشہ اور حضرت عمر کی روایتیں تو دونوں کے درمیان بھی درحقیقت کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ حضرت عائشہ نے مہر کی اصل مقدار کی وضاحت کرتے ہوئے اوقیہ کے ساتھ کسر یعنی آدھے اوقیہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور حضرت عمر نے صرف اوقیہ کا ذکر کیا کسر کو چھوڑ دیا اس کے علاوہ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت عمر نے بارہ اوقیہ سے زیادہ کی نفی اپنے علم کے مطابق کی ہے یعنی حضرت عمر کو صرف بارہ اوقیہ ہی کا علم ہوگا اور حضرت عائشہ نے جو ایک نش آدھا اوقیہ زیادہ ذکر کیا ہے وہ حضرت عمر کے علم میں نہیں آیا ہوگا۔ یہ بات ملحوظ ہے کہ حضرت عمر نے یہاں صرف اولی اور افضل کو بیان کیا ہے یعنی ان کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ زیادہ بہتر اور افضل و اولی یہ ہے کہ مہر کم ہی باندھا جائے جس کی مسنون مقدار بارہ اوقیہ ہے ورنہ تو جہاں تک جواز کا تعلق ہے یہ بتایا جا ہی چکا ہے کہ اس سے زیادہ مہر باندھنا بھی جائز ہے۔
Top