Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 2825
وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم : دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة وإن الكذب ريبة . رواه أحمد والترمذي والنسائي وروى الدارمي الفصل الأول
شبہات میں پڑنے سے بچو
اور حضرت حسن ابن علی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کو خود سنا ہے اور اسے یاد رکھا ہے کہ جو چیز تم کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور اس چیز کی طرف میلان رکھو جو تم کو شک میں نہ ڈالے کیونکہ حق دل کے اطمینان کا باعث ہے اور باطل شک وتردد کا موجب )
تشریح
ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ شبہات میں پڑنے سے بچو اور جو چیزیں شبہات میں مبتلا کرنے والی ہوں ان سے اجتناب کرو بعض علماء کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ ازقسم اقوال و اعمال جس چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں تمہارا ضمیر شک میں مبتلا ہوجائے تو اس چیز کو چھوڑ کر اس چیز کو اختیار کرلو جس کے بارے میں تمہارا ضمیر کسی شک میں مبتلا نہ ہو کیونکہ انسان کا ضمیر چونکہ غلط راہنمائی نہیں کرتا اس لئے کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا شک میں مبتلا ہونا اس چیز کے غلط اور باطل ہونے کی علامت ہے اور کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا مطمئن ہوجانا اس چیز کے صحیح اور حق ہونے کی علامت ہے گویا کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کی پہچان کے لئے یہ ایک قاعدہ اور کسوٹی ہے تاہم یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ یہ بات ہر شخص کو حلال نہیں ہوتی بلکہ یہ وصف خاص ان صالح انسانوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے ذہن وفکر اور جن کے دل و دماغ تقوی و ایمان داری اور راستبازی وحق پسندی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں۔
Top