Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 1803
وعن زينب امرأة عبد الله قالت : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا معشر النساء تصدقن ولو من حليكن فإنكن أكثر أهل جهنم يوم القيامة . رواه الترمذي
زیور کی زکوۃ
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی زوجہ محترمہ حضرت زینب کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اے عورتوں کی جماعت، تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اگرچہ وہ زیور ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ قیامت کے دن تم میں اکثریت دوزخیوں کی ہوگی۔ (ترمذی)
تشریح
اکثریت دوزخیوں کی ہوگی کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت چونکہ دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کا ان میں جذبہ بھی نہیں ہوتا اس لئے عورتوں کی اکثریت کو دوزخی فرمایا گیا ہے چناچہ عورتوں کو آگاہ فرمایا گیا کہ اگر تم دوزخ کی ہولنا کیوں سے بچنا چاہتی ہو تو دنیا کی محبت اور دنیاوی عیش و عشرت کی طمع و حرص سے باز آؤ۔ اللہ نے تمہیں جس قدر مال دیا ہے اس پر قناعت کرو اور اس میں سے زکوٰۃ و صدقہ نکالتی رہو تاکہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہو اور تم دوزخ میں جانے سے بچ جاؤ۔ عورتوں کے زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا تو مسلک یہ ہے کہ مطلقا زیور میں زکوٰۃ واجب ہے جب کہ وہ حد نصاب کو پہنچتا ہو حضرت امام شافعی کا پہلا قول بھی یہی ہے حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد فرماتے ہیں کہ عورتوں کے ان زیورات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے جن کا استعمال مباح ہے لہٰذا جن زیورات کا استعمال حرام ہے ان حضرات کے نزدیک بھی ان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حضرت امام شافعی کا آخری قول بھی یہی ہے حضرت امام اعظم کے مسلک کی دلیل بھی یہی حدیث ہے جس سے مطلقاً زیورات میں زکوٰۃ کا وجوب ثابت ہو رہا ہے۔ کون سے زیورات مباح ہیں اور کون سے زیورات غیر مباح و حرام ہیں؟ اس کی تفصیل جاننے کے لئے محرر اور شافعی مسلک کی دوسری کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
Top