مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 1334
وَعَنْ اَوْسِ بْنِ اَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنْ اَفْضَلِ اَیَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِیْہِ خُلِقَ اٰدَمَ وَفِیْہِ قُبِضَ وَفِیْہِ النَّفْخَۃُ وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ فَاَکْثَرُوْا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْہِ فَاِنَّ صَلَا تَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَی قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَکَیْفَ تُعْرَضُ صَلَا تُنَا عَلَیْکَ وَقَدْ اَرِمْتَ قَالَ یَقُوْلُوْنَ بَلِیْتَ قَالَ اِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائ۔ (رواہ ابوداؤدوالنسائی وابن ماجۃ والدارمی والبیہقی فی الدعوات الکبیرٌ)
فضائل جمعہ
حضرت اوس بن اوس راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جمعہ کا دن تمہارے لئے بہترین دنوں میں سے ہے۔ (کیونکہ) اس دن آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی گئی اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن ( دوسرا) صور پھونکا جائے گا۔ (جس کی آواز سے مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوں گے)۔ ) اسی دن (پہلا) صور پھونکا جائے گا (جس کی آواز سے قیامت قائم ہوگی اور تمام مخلوق فنا کے گھاٹ اتر جائے گی) لہٰذا اس دن تم لوگ مجھ پر زیادہ درود بھیجو کیونکہ تمہارے درود میرے سامنے پیش کئے جائینگے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے درود آپ ﷺ کے سامنے کس طرح پیش کئے جائیں گے۔ جب کہ (ہمارے درود بھیجے کے وقت) آپ کی ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی ہوں گی؟ راوی فرماتے ہیں کہ لفظ ارمت سے صحابہ کی مراد لفظ بلیت تھی یعنی آپ ﷺ کا جسد مبارک بوسیدہ ہوچکا ہوگا۔ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کے لئے انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں۔ (یعنی انبیاء کے جسم زمین فنا نہیں کرتی۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی، بیہیقی)

تشریح
ارشاد ان میں افضل ایامکم یوم الجمعۃ اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یا تو عرفہ کا دن سب دنوں میں سے افضل ہے یا پھر عرفہ اور جمعہ دونوں دن فضیلت کے اعتبار سے مساوی ہیں۔ جمعے کے دن بہت زیادہ درود بھیجنے کے لئے آپ ﷺ نے اس لئے حکم دیا ہے کہ درود افضل عبادات میں سے ہے اور چونکہ جمعہ کے دن ہر نیکی کا ثواب ستر درجہ زیادہ ملتا ہے اس لئے جمعے کے دن درود پڑھنا اولیٰ ہوگا۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جمعے کے دن اور جمعہ کی رات رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے وقت بہت زیادہ فضائل دوسری احادیث سے بھی ثابت ہیں اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ حق تعالیٰ کی جانب سے ایک عظیم الشان نعمت ہے لہٰذا جمعہ کے دن اور جمعہ کی شب رسول اللہ ﷺ پر بہت زیادہ درود بھیجا جائے اور اس سے غافل نہ رہا جائے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح زمین دوسرے مردوں کے ساتھ معاملہ کرتی ہے کہ چند ہی دنوں کے بعد ان کے اجسام زمین کے نذر ہوجاتے ہیں اور گل سڑ جاتے ہیں ایسا معاملہ انبیاء کے مبارک اجسام کے ساتھ نہیں ہوتا نہ تو ان کے اجسام فنا ہوتے ہیں نہ گلتے سڑتے ہیں۔ بلکہ وہ جوں کے توں قبروں میں دنیا کی طرح زندہ رہتے ہیں اور حق تعالیٰ کی جانب سے انہیں وہاں حیات جسمانی حقیقی عنایت فرمائی جاتی ہے۔ چناچہ یہ مسئلہ بالکل صاف اور واضح ہے اور اس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ انبیاء اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور انہیں بالکل دنیا کی طرح حقیقی جسمانی حیات حاصل ہے نہ کہ انہیں حیات معنوی روحانی حاصل ہے جیسا کہ شہداء کو حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ شہداء کے علاوہ دوسرے مردے بھی اپنی قبروں میں سلام کلام سنتے ہیں اور بعض ایام میں ان کے اقرباء کے اعمال بھی ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔
Top