Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 5243
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من خاف أدلج ومن أدلج بلغ المنزل . ألا أن سلعة الله غالية ألا إن سلعة الله الجنة . رواه الترمذي .
حکیمانہ نصیحت
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کا دشمن رات کے آخری حصے میں دھاوا بولنے والا ہے تو وہ رات کے پہلے ہی حصے میں اپنے بچاؤ کا راستہ اختیار کرلیتا ہے تاکہ دشمن کی غارت گری سے محفوظ رہ سکے اور جو شخص رات کے پہلے حصے میں بھاگنا شروع کردیتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے جان لو اللہ کا مال بہت قیمتی ہے جو نہایت اونچی قیمت چکائے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ اونچی قیمت اس کی راہ میں جان ومال کی قربانی ہے اور یاد رکھو اللہ کا مال جنت ہے۔ (ترمذی)
تشریح
منزل سے مراد مطلوب و مقصود کو حاصل کرلینا ہے طیبی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے گویا رہر و آخرت کی مثال بیان فرمائی ہے کہ شیطان اس کی تاک میں ہے نفس اور اس کی باطل آرزوئیں اس شیطان کی مددگار ہیں اور اس طرح وہ اس شخص کی مانند ہے جس کا طاقتور اور عیار دشمن اس پر دھاوا بولنے کے لئے تیار کھڑا ہو اور انتظار کر رہا ہو کہ رات کا پچھلا پہر آئے تو تاریکی اور سناٹے میں اس پر حملہ کر کے اس کو غارت وتباہ کر دے، پس اگر وہ رہر و آخرت ہوشیار ہوجائے، راہ ہدایت پر ابتداء ہی سے چلنا شروع کر دے اور اپنے اعمال میں نیت کا اخلاص پیدا کرلے تو وہ یقینا شیطان سے اور اس کے مکر سے محفوظ رہے گا۔ ورنہ وہ اتنا عیار دشمن ہے کہ جہاں ذرا سی غفلت دیکھتا ہے اپنے مددگاروں کو لے کر فورا دھاوا بول دیتا ہے اور ہلاکت میں دال دیتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس امر کی راہنمائی فرمائی کہ راہ آخرت پر چلنا نہایت دشوار اور وہاں کی نعمتیں وسعادتیں حاصل کرنا سخت مشکل ہے، اس راستے میں ذرا سی غفلت وسستی بھی منزل کو دور سے دور کردیتی ہے جب تک زیادہ سے زیادہ محنت وعمل اور سعی و کوشش نہیں کی جاتی وہ نعمتین اور سعادتیں پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتیں چناچہ آپ ﷺ نے جان لو اللہ کا مال بہت قیمتی ہے کے ذریعے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مال یعنی جنت کی اگر کوئی قیمت ہوسکتی ہے اور اگر اس کو کسی چیز کے بدلے میں حاصل کیا جاسکتا ہے تو وہ اللہ پرستی و خدا ترسی اور نیک اعمال کا سرمایہ ہے اگر اللہ کی جنت حاصل کرنا چاہتے ہو تو نیکی کے راستے کو اختیار کرو، برائی کے نزدیک بھی نہ بھٹکو اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرو۔ اسی مفہوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ذریعے اشارہ فرمایا ہے۔ آیت (والباقیات الصالحات خیر عند ربک ثوابا وخیر املا)۔ اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجے بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی ہزار درجے بہتر ہے۔ اور فرمایا۔ آیت (ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ)۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔
Top