Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 4568
وعن عبد الله بن مسعود قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم إذنك علي أن ترفع الحجاب وأن تسمع سوادي حتى أنهاك . ( متفق عليه )
خاص اجازت
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میری طرف سے تمہیں یہ اجازت ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ اور میری باتیں سنو تاآنکہ میں تمہیں منع نہ کروں۔ (مسلم )
تشریح
نبی اکرم ﷺ کے آستانہ اقدس کے دروازے پر جو پردے پڑے ہوئے تھے وہ بوریے کے تھے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو نبی ﷺ کے گھر کے اندر آنے کی مخصوص اجازت حاصل تھی وہ دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت حاصل کرنے کے پابند نہیں تھے، چناچہ آپ نے ان سے فرما دیا کہ میرے پاس تمہارے آنے کی اجازت کی علامت بس یہی ہے کہ تم پردہ اٹھا کر دیکھو اگر میں سامنے موجود ہوں یا تمہیں یہ معلوم ہو کہ میں ہوں تو اندر چلے آؤ خواہ میں مخصوص لوگوں سے خفیہ بات ہی کیوں نہ کر رہا ہوں تمہیں اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہاں البتہ اگر کسی وقت میں تمہارا اند آنا مناسب نہیں سمجھوں گا اس وقت تمہیں اندر آنے سے منع کر دوں گا اس سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نگاہ نبوت میں کس قدر محبوبیت حاصل تھی اور ان پر نبی اکرم ﷺ کی کتنی زیادہ رعایت تھی آپ نے ان کو اپنا اتنا مقرب قرار دیا کہ گویا وہ گھر ہی کے ایک فرد ہوگئے تھے اور جب چاہتے گھر میں چلے آتے۔ لیکن واضح رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ مخصوص اجازت اس صورت سے متعلق تھی جب کہ حجرہ مبارکہ میں عورتوں کے آنے کا وقت نہیں رہتا تھا یا گھر میں عورتیں موجود نہیں ہوتی تھیں، خاص طور سے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد تو یہ قید ضرور عائد ہوئی ہوگی۔
Top