Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 58
یہ و سوسہ کے بیان میں ہے
وسوسہ گناہ یا کفر سے متعلق اس خیال کو کہتے ہیں جو دل میں گزرے یا شیطان دل و دماغ میں ڈالے اس کے مقابلہ پر الہام اس اچھے اور نیک خیال کو فرماتے ہیں جو اللہ کی طرف سے دل و دماغ میں ڈالا جاتا ہے۔ وسوسہ کی قسمیں وسوسہ کی مختلف صورتیں اور نوعیتیں ہوتی ہیں اور اسی اعتبار سے علماء نے اس کی الگ الگ قسمیں متعین کی ہیں چناچہ وسوسہ کی ایک قسم تو ضروری یعنی اضطراری ہے اور دوسری قسم اختیاری ہے۔ ضروری یا اضطراری وسوسہ اس کو فرماتے ہیں کہ کسی گناہ کا یا ایمان و یقین کے منافی کسی بات کا خیال اچانک اور بےاختیار دل و دماغ میں گزر جائے اس کو اصطلاحی طور پر ہاجس سے تعبیر کیا جاتا ہے اس (ہاجس) کی معافی گزشتہ امتوں میں بھی رہی ہے اور اس امت میں بھی ہے اور اگر وہی برا خیال دل و دماغ میں ٹھہر جائے اور خلجانی کیفیت پیدا ہوجائے تو اس کو خاطر سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ (خاطر) بھی امت سے معاف ہے۔ اختیاری و سوسہ اس کو فرماتے ہیں کہ کسی گناہ یا ایمان و یقین کے منافی کسی بات کا خیال دل و دماغ میں پیدا ہو، ٹھہرا رہے، لگاتار رہے۔ مستقل خلجان کرتا رہے، طبیعت کی خواہش بھی اس کے کرنے کی ہو اور ایک گونہ لذت و محبت بھی اس کے تئیں محسوس ہو۔ اختیاری وسوسہ کی یہ صورت ہم کہلاتی ہے اور یہ بھی صرف اس امت سے معاف ہے، اس پر کوئی مواخذہ نہیں اور جب تک یہ عملی صورت اختیار نہ کرے اس پر کوئی گناہ نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ اگر عمل کا قصد ہوجائے اور پھر اپنے آپ کو عمل سے باز رکھے تو اس کے عوض نیکی لکھی جاتی ہے۔ ہم کے مقابلہ پر اختیاری وسوسہ کی دوسری صورت کا نام عزم ہے یعنی انسانی طبیعت اور نفس کا کسی برے خیال اور بری بات کو اپنے اندر کرنا اور جما لینا اور نہ صرف یہ کہ اس خیال سے نفرت و کراہیت نہ ہو بلکہ اس پر عمل کرنے کا ایسا پختہ ارادہ کرلینا کہ اگر کوئی خارجی مانع نہ ہو اور اسباب و ذرائع مہیا ہوں تو وہ یقینی طور پر عملی صورت اختیار کرلے وسوسہ کی یہ صورت ایسی ہے جو قابل مواخذہ ہے لیکن اس مواخذہ کی نوعیت عملی طور پر ہونے والے مواخذہ سے ہلکی ہوگی، مطلب یہ کہ وسوسہ جب تک اندر رہے گا اس پر کم گناہ ہوگا اور جب اندر سے نکل کر عملی صورت اختیار کرے گا تو گناہ زیادہ ہوگا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وسوسہ کی مذکورہ بالا تقسیم ان افعال و اعمال کی نسبت سے ہے جن کے وقوع اور صدور کا تعلق ظاہری اعضاء جسم سے جیسے زنا اور چوری وغیرہ وغیرہ جو باتیں دل و دماغ کا فعل کہلاتی ہیں جیسے برا عقیدہ اور حسد وغیرہ وغیرہ تو وہ اس تقسیم میں داخل نہیں ہیں ان کے ہمیشہ استمرار پر بھی مواخذہ ہوتا ہے
Top