Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 4862
وعن تميم الداري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال الدين النصيحة ثلاثا . قلنا لمن ؟ قال لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم . رواه مسلم . ( متفق عليه )
خیرخواہی کی اہمیت وفضیلت
اور حضرت تمیم داری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دین نصیحت ہے (یعنی نصیحت اور خیر خواہی اعمال دین میں سے افضل ترین عمل ہے یا نصیحت اور خیر خواہی دین کا ایک مہتم بالشان نصب العین ہے) حضور نے یہ بات تین بار فرمائی ہم نے یعنی صحابہ نے پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کسی کے حق میں کرنی چاہیے؟ حضور نے فرمایا کہ اللہ کے لئے، اللہ کی کتاب کے لئے، مسلمانوں کے اماموں یعنی اسلامی حکومت کے سربراہوں اور علماء کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے۔ مسلم۔
تشریح
خدا کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات وصفات پر ایمان لائے اس کی واحدانیت و حاکمیت کا اعتقاد رکھے اس کی صفات و کا رسازی میں کسی غیر کو شریک کرنے سے اجتناب کرے اس کی عبادت اخلاص نیت کے ساتھ کرے اور اس کے اوامرو نواہی کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کرے اور اس کا شکر ادا کرے اور اس کے نیک بندوں سے محبت کرے اور بدکار سرکش بندوں سے نفرت کرے۔ خدا کی کتاب کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر ہر حالت میں عمل کرے تجوید و ترتیل اور غور و فکر کے ساتھ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعظیم و احترام میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔ خدا کے رسول کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو سچے دل سے تصدیق کرلے کہ وہ رسول اللہ اور اس کے پیغمبر ہیں ان کی نبوت پر ایمان لائے وہ اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچائیں اور جو احکام دین ان کو قبول کرے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے ان کو اپنی جان اپنی اولاد اپنے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز رکھے ان کے اہل بیت اور ان کے صحابہ سے محبت رکھے اور ان کی سنت پر عمل کرے۔ مسلمانوں کے اماموں کے حق میں خیر خواہی یہ ہے کہ جو شخص اسلامی حکومت کی سربراہی کر رہا ہو اس کے ساتھ وفاداری کو قائم رکھے، احکام و قوانین کی بیجا طور پر خلاف ورزی کر کے ان کے نظم حکومت میں خلل و ابتری پیدا نہ کرے اچھی باتوں میں ان کی پیروی کرے اور بری باتوں میں ان کی اطاعت سے اجتناب کرے اگر وہ اسلام اور اپنے عوام کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت و کوتاہی کا شکار ہوں تو ان کو مناسب اور جائز طریقوں سے متنبہ کرے اور ان کی خلاف بغاوت کا علم بلند نہ کرے اگرچہ وہ کوئی ظلم ہی کیوں نہ کریں، علماء کو جو مسلمانوں کے علمی و دینی رہنما ہوتے ہیں ان کی عزت و احترام کرے، شرعی احکام اور دینی مسائل میں وہ قرآن و سنت کے مطابق جو کچھ کہیں اس کو قبول کرے اور اس پر عمل کرے ان کی اچھی باتوں اور ان کے نیک اعمال کی پیروی کرے۔ اور تمام مسلمانوں کے حق میں خیر خواہی کا مطلب ان کی دینی دنیاوی خیر و بھلائی کا طالب رہے ان کو دین کی تبلیغ کرے ان کو دنیا کے اس راستہ پر چلانے کی کوشش کرے اور ان کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانے کی بجائے نفع پہنچانے کی سعی کرے۔ واضح رہے کہ یہ حدیث بھی جوامع الکلم میں سے ہے اس کے مختصر الفاظ حقیقت میں دین و دنیا کی تمام بھلائیوں اور سعادتوں پر حاوی ہیں اور تمام علوم اولین و آخرین اس چھوٹی سی حدیث میں مندرج ہیں۔
Top