Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 2706
وعن سالم عن ابن عمر : أنه كان يرمي جمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة طويلا ويدعو ويرفع يديه ثم يرمي الوسطى بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم يأخذ بذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي بسبع حصيات يكبر عند كل حصاة ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول : هكذا رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يفعله . رواه البخاري
رمی جمرات کی ترتیب
حضرت سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ابن عمر) نزدیک کے جمرہ یعنی جمرہ اولیٰ پر سات کنکریاں مارنے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے پھر آگے بڑھتے یہاں تک کہ جب نرم زمین پر پہنچتے تو دیر تک (یعنی بقدر تلاوت سورت بقرہ) قبلہ رو کھڑے رہتے اور دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جمرہ وسطی پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے، پھر بائیں جانب کو بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر وہ وہاں سے واپس ہوتے اور کہتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (بخاری)
تشریح
مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق رمی اگرچہ حنفیہ کے ہاں سنت ہے لیکن احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ اس ترتیب کو ترک نہ کیا جائے کیونکہ یہ ترتیب حضرت امام شافعی وغیرہ کے نزدیک واجب ہے! موالات یعنی تمام جمرات پر پے در پے رمی بھی سنت ہے جب کہ یہ حضرت امام مالک کے مسلک میں واجب ہے۔ من بطن الوادی (بطن وادی سے) یہ بات معلوم ہوئی کہ رمی جمرہ عقبہ، بطن وادی سے (یعنی نشیبی حصہ میں کھڑے ہو کر) کی جائے چناچہ نشیب میں کھڑے ہو کر رمی کرنا مسنون ہے۔ لیکن ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر اوپر کی جانب سے جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکی جائیں تو اس طرح بھی رمی ہوجائے گی مگر یہ خلاف سنت ہے۔ جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی کے پاس ٹھہرنا اور حمد و صلوٰۃ اور وہاں دعا میں مشغول ہونا تو ثابت ہے لیکن تیسرے جمرہ یعنی جمرہ عقبی کے پاس ٹھہرنا اور دعا مانگنا ثابت نہیں ہے اور اس کی کوئی وجہ علت منقول نہیں ہے اگرچہ بعض علماء نے اس بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔
Top