مشکوٰۃ المصابیح - مردہ کو دفن کرنے کا بیان - حدیث نمبر 328
وعن أبي سعيد قال : جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك فاجعل لنا من نفسك يوما نأتيك فيه تعلمنا مما علمك الله . فقال : اجتمعن في يوم كذا وكذا في مكان كذا وكذا فاجتمعن فأتاهن رسول الله صلى الله عليه و سلم فعلمهن مما علمه الله ثم قال : ما منكن امرأة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كان لها حجابا ن النار فقالت امرأة منهن : يا رسول الله أو اثنين ؟ فأعادتها مرتين . ثم قال : واثنين واثنين واثنين . رواه البخاري
غائبانہ سلام اور اس کا جواب
اور حضرت غالب کہتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے اور ان سے ان کے باپ یعنی میرے دادا نے بیان کیا کہ مجھ کو میرے باپ نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجتے ہوئے کہا کہ تم نبی ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ کو سلام عرض کرو میرے دادا نے بیان کیا کہ اپنے باپ کے حکم پر میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میرے باپ نے آپ کو سلام عرض کیا ہے نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم اور تمہارے باپ پر سلامتی ہو۔ ابوداؤد )

تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے سلام پہنچائے تو مسنون یہ ہے کہ سلام پہنچانے والے پر بھی سلام بھیجا جائے اور جس کی طرف سے جس نے سلام پہنچایا ہے اس پر بھی یعنی جب کوئی شخص کسی کی طرف سے سلام پہنچائے تو جواب میں یوں کہا جائے علیک وعلی فلاں السلام یاوعلیک وعلیہ السلام چناچہ نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بعینہ منقول ہیں۔
Top