مؤطا امام مالک - کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - حدیث نمبر 833
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُهُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ وَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَی غَنَمًا قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا
بکریوں کا بیان
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بلا اس کی اجازت کے بھلا کوئی تم میں یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خزانہ کی کوٹھڑی میں آ کے اس کو توڑ کے اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے سو ان کے جانور کے تھن تو ان کے کھانے کی دودھ کو حفاظت میں رکھتے ہیں یعنی تھن کوٹھڑی کی طرح حفاظت کے واسطے ہیں سو ہرگز نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بدون اس کی اجازت کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے بھی؟ فرمایا کہ میں نے بھی۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn Qasim from his father that when people went to stone the jamras they would walk both going there and coming back. The first one to ride was Muawiya ibn Abi Sufyan.
Top