مشکوٰۃ المصابیح - حوض اور شفاعت کا بیان - حدیث نمبر 2569
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ عَلَيَّ مَشْيٌ فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَکِبْتُ حَتَّی أَتَيْتُ مَکَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ فَقَالُوا عَلَيْکَ هَدْيٌ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ عُلَمَائَهَا فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مَرَّةً أُخْرَی مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ فَمَشَيْتُ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ يَقُولُ عَلَيَّ مَشْيٌ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ رَکِبَ ثُمَّ عَادَ فَمَشَی مِنْ حَيْثُ عَجَزَ فَإِنْ کَانَ لَا يَسْتَطِيعُ الْمَشْيَ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَرْکَبْ وَعَلَيْهِ هَدْيُ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَوْ شَاةٍ إِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا هِيَ
جو شخص نذر کرے پیدل چلنے کی بیت اللہ تک اس کا بیان
یحییٰ بن سعید نے کہا میں نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر کی تھی میری ناف میں درد ہونے لگا میں سوار ہو کر مکے میں آیا اور عطا بن ابی رباح وغیرہ سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو ہدی لازم ہے جب میں مدینہ آیا وہاں لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو دوبارہ پیدل چلنا چاہئے جہاں سے سوار ہوا تھا تو پیدل چلائیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور چلے پھر عاجز ہوجائے تو سوار ہوجائے پھر دوبارہ جب آئے تو جہاں سے سوار ہوا تھا وہاں سے پیدل چلے اگر چلنے کی طاقت نہ ہو تو جہاں تک ہو سکے چلے پھر سوار ہوجائے اور ہدی میں ایک اونٹ یا گائے دے اگر نہ ہو سکے تو بکری دے۔
Top