Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (969 - 1049)
Select Hadith
969
970
971
972
973
974
975
976
977
978
979
980
981
982
983
984
985
986
987
988
989
990
991
992
993
994
995
996
997
998
999
1000
1001
1002
1003
1004
1005
1006
1007
1008
1009
1010
1011
1012
1013
1014
1015
1016
1017
1018
1019
1020
1021
1022
1023
1024
1025
1026
1027
1028
1029
1030
1031
1032
1033
1034
1035
1036
1037
1038
1039
1040
1041
1042
1043
1044
1045
1046
1047
1048
1049
معارف الحدیث - کتاب الایمان - حدیث نمبر 117
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَصُفُّ أَهْلُ النَّارِ فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَا فُلَانُ اَمَا تَعْرِفْنِىْ اَنَا الَّذِىْ سَقَيْتُكَ شَرْبَةً وَقَالَ بَعْضُهُمْ اَنَا الَّذِىْ وَهَبْتُ لَكَ وَضُوْءً فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ . (رواه ابن ماجه)
شفاعت
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آخرت میں صف باندھے کھڑے کیے جائیں گے اہلِ دوزخ (یعنی اہلِ ایمان میں سے کچھ گنہگار لوگ جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے دوزخ میں سزا پانے کے مستحق ہوں گے، وہ آخرت میں کسی موقع پر صف باندھے کھڑے ہوں گے) پس ایک شخص اہلِ جنت میں اس کے پاس سے گذرے گا، تو صف والوں میں سے ایک شخص اس گذرنے والے جنتی کو پکار کر کہے گا اے فلاں! کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں وہ ہوں، کہ ایک دفعہ میں نے تم کو پانی پلایا تھا (یا شربت وغیرہ، پینے کی کوئی اچھی چیز پلائی تھی) اور اسی صف والوں میں سے کوئی اور کہے گا، کہ میں نے تمہیں وضو کے لیے پانی دیا تھا، پس یہ شخص ان لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کرا دے گا۔ (ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ دنیا میں صالحین سے محبت اور قربت کا تعلق اپنی عملی کوتاہیوں کے باوجود بھی ان شاء اللہ بہت کچھ کام آنے والا ہے، بشرطیکہ ایمان نصیب ہو، افسوس! ان چیزوں میں جس طرح بہت سے جاہل عوام سخت غلو اور افراط میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوئے ہیں، اسی طرح ہمارے زمانے کے بعض اچھے خاصے پڑھے لکھے سخت تفریط میں مبتلا ہیں۔ جنت اور اس کی نعمتیں! عالمِ آخرت کی جن حقیقتوں پر ایمان لانا ایک مومن کے لیے ضروری ہے اور جن پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن و مسلم نہیں ہو سکتا، ان ہی میں سے جنت و دوزخ بھی ہیں، اور یہی دونوں مقام انسانوں کا آخری اور پھر ابدی ٹھکانا ہیں، قرآن مجید میں بھی جنت اور اس کی نعمتوں کا اور دوزخ اور اس کی تکلیفوں کا ذخر اتنی کثرت سے کیا گیا ہے اور ان دونوں کے متعلق اتنا کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر اس سلسلے کی سب آیتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو صرف انہی سے اچھی خاصی ایک کتاب تیار ہو جائے۔ اسی طرح کتبِ حدیث میں بھی جنت و دوزخ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی صدہا حدیثیں محفوظ ہیں جن سے ان دونوں کے متعلق کافی معلومات مل جاتی ہیں، پھر بھی یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اور اسی طرح احادیث میں جنت و دوزخ کے متعلق جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے اس کی پوری اور اصلی حقیقت کا علم وہان پہنچ کر، اور مشاہدہ کے بعد ہی حاصل ہو سکے گا، جنت تو جنت ہے، اگر کوئی شخص ہماری اس دنیا ہی کے کسی بارونق شہر کے بازاروں کا اور وہاں کے باغوں اورگلزاروں کا ذکر ہمارے سامنے کرے، تو اس کے بیان سے جو تصور ہمارے ذہنوں میں قائم ہوتا ہے، ہمیشہ کا تجربہ ہے کہ وہ اصل کے مقابلہ میں ہمیشہ بہت ناقص ہوتا ہے، بہر حال اس نفل الامری حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے قرآن و حدیث میں جنت یا دوزخ کے بیان کو پڑھنا چاہیے۔ دراصل آیات یا احادیث میں جنت اور دوزخ کا جو ذخر فرمایا گیا ہے، اس کا یہ مقصد ہی نہیں ہے، کہ لوگوں کے سامنے وہاں کا مکمل جغرافیہ اور وہاں کے احوال کا پورا نقشہ آ جائے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں میں دوزخ اور اس کے عذاب کا خوف پیدا ہو، اور وہ ان برائیوں سے بچیں جو دوزخ میں لے جانے والی ہیں اور جنت اور اس کی بہاروں اور لذتوں کا شوق ابھرے، تا کہ وہ اچھے اعمال اختیار کریں، جو جنت میں پہنچانے والے ہیں، اور وہاں کی نعمتوں کا مستحق بنانے والے ہیں، پس اس سلسلہ کی آیات اور احادیث کا اصلی حق یہی ہے کہ ان کے پڑھنے اور سننے سے شوق اورخوف کی یہ کیفیتیں پیدا ہوں۔
Top