Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (141 - 241)
Select Hadith
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
معارف الحدیث - کتاب الرقاق - حدیث نمبر 759
عَنْ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا ، مُتَخَشِّعًا ، مُتَضَرِّعًا. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
نماز استسقا
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز استسقا کے لئے چلے تو آپ ﷺ بہت معمولی اور کم حیثیت لباس پہنے ہوئے تھے، اور آپ ﷺ کا انداز خاکساری اور مسکینی اور عاجزی کا تھا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا صلوٰۃ استسقا قحط کی عمومی اور اجتماعی مصیبت کے دفیعہ کے لئے اجتماعی نماز اور دعا ہے۔ مندرجہ بالا حدیثوں سے اس نماز کے بارے میں چند باتیں معلوم ہوئیں۔ اول ...... یہ کہ یہ نماز آبادی اور بستی سے باہر صحرا اور جنگل میں براہ راست زمین پر ہونی چاہئے، بارش طلبی کے لئے صحرا اور جنگل ہی نسبتاً زیادہ موزوں جگہ ہے اور اس میں پانی بے مائگی کا اظہار بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے ..... یہ جمعہ یا عید کی نماز کی طرح اس نماز کے لئے نہانے دھونے اور اچھے کپڑے پہننے کا اہتمام نہ کیا جائے بلکہ اس کے برعکس بالکل معمولی اور کم حیثیت لباس ہو، مسکینوں اور فقیروں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضری ہو، سائل کے لئے فقیرانہ صورت اور پھٹے حال مسکینوں کی سی حالت ہی زیادہ مناسب ہے۔ تیسرے ...... یہ کہ دعا بہت ابتہال اور الحاح کے ساتھ کی جائے، اور اس غرض سے ہاتھ آسمان کی طرف زیادہ اونچے اٹھائے جائیں۔ پہلی دونوں حدیثوں میں " تحویل رداء " کا بھی ذکر ہے یعنی یہ کہ آپ ﷺ نے قبلہ رو ہر کر اپنی چادر مبارک پلٹ کر اوڑھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اے اللہ! جس طرح میں نے اس چادر کو الٹ دیا اسی طرح تو بارش نازل فرما کر صورت حال بالکل پلٹ دے، گویا ہاتھ اٹھانے کی طرح یہ عمل بھی دعا ہی کا ایک جز تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی پہلی حدیث میں گزرا کہ جس وقت آپ ﷺ نے نماز استسقا پڑھی اسی وقت ایک بدلی اٹھی اور بھرپور بارش ہوئی۔ دوسرے بعض صحابہ کرامؓ کی روایت میں بھی اس کا ذکر ہے۔ الحمد للہ یہ امت کا بھی عام تجربہ ہے۔ اس عاجز و عاصی کو بھی اپنی عمر میں تین دفعہ نماز استسقاپڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ پہلی دفعہ اپنے بالکل بچپن میں اپنے اصل وطن سنبھل میں، دوسری دفعہ اب سے قریبا پندرہ سال پہلے لکھنو میں اور تیسری دفعہ ۱۹۵۱ میں مدینہ طیبہ میں اور یہ تینوں دفعہ کی نماز کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمائی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ: جب نماز اور دعا کے نتیجہ میں بارش ہوئی اور بھرپور ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور میں اس کا بندہ اور رسول ہوں۔ یہ کمال عبدیت ہے کہ آپ ﷺ نے نماز اور دعا کے نتیجہ میں جب معجزانہ طور پر بارش نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اس حقیقت کا اعتراف و اعلان ضروری سمجھا کہ یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہوا لہٰذا وہی حمد و شکر کا مستحق ہے اور میں تو بس اس اللہ کا ایک بندہ اور پیغامبر ہوں۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سيدنا مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ.
Top