Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (141 - 241)
Select Hadith
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
معارف الحدیث - کتاب الرقاق - حدیث نمبر 369
عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ » (رواه البخارى ومسلم)
شرم و حیا
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیا صرف خیر ہی کو لاتی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بعض اوقات سرسری نظر میں یہشبہ ہوتا ہے کہ شرم و حیا کی وجہ سے آدمی کو کبھی کبھی نقصان بھی پہنچ جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اسی شبہ کا ازالہ فرمایا ہے، اور آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کے نتیجہ میں کبھی کوئی نقصان کا شبہ ہوتا ہے وہاں بھی اگر ایمانی اور اسلامی وسیع نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بجائے نقصان کے نفع ہی نفع نظر آئے گا۔ یہاں بعض لوگوں کو ایک اور بھی شبہ ہوتا ہے اور وہ شبہ یہ کہ شرم و حیا کی زیادتی بعض اوقات دینی فرائض ادا کرنے سے بھی رکاوٹ بن جاتی ہے، مثلاً جس آدمی میں شرم و حیا کا مادہ زیادہ ہو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض ادا کرنے، اور اللہ کے بندوں کو نصیحت کرنے اور مجرموں کو سزا دینے جیسے اعلیٰ دینی کاموں میں بھی ڈھیلا اور کمزور ہوتا ہے لیکن یہ شبہ ایک مغالطہ پر مبنی ہے، انسان کی طبیعت کی جو کیفیت اس قسم کے کاموں کے انجام دینے میں رکاوٹ بنتی ہے وہ دراصل حیا نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس آدمی کی ایک فطری اور طبعی کمزوری ہوتی ہے، لوگ ناواقفی سے اس میں اور حیا میں فرق نہیں کر پاتے۔
Top