معارف الحدیث - کتاب الرقاق - حدیث نمبر 215
عَنْ أَبِىْ كَبْشَةَ الأَنَّمَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ » فَامَّا الَّذِىْ اُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَاِنَّهُ « مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا ، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهَا بَابَ فَقْرٍ وَاَمَّا الَّذِىْ أُحَدِّثُكُمْ فَقَالَ : حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ » "إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ ، عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ ، وَيَصِلُ رَحِمَهُ ، وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ ، فَهَذَا بِأَفْضَلِ المَنَازِلِ ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا ، فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ لِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ ، وَلَا يَعْمَلُ فِيْهِ بِحَقٍّ ، فَهَذَا بِأَخْبَثِ المَنَازِلِ ، وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ نِيَّتُهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ " (رواه الترمذى)
نیک مقاصد کے لیے دنیا کی دولت حاصل کرنے کی فضیلت
ابو کبشہ انماری سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ تین باتیں ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ان کے علاوہ ایک اور بات ہے جس کو میں تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں، پس تم اس کو یاد کر لو! جن تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں، ان میں ایک تو یہ ہے کہ کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا، (یعنی کوئی شخص اپنا مال راہِ خدا میں دینے کے سبب سے کبھی مفلس و نادار نہیں ہو گا، بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی، اور جس خدا کی راہ میں وہ صدقہ کرے گا، وہ اپنے خزانہ غیب سے اس کو دیتا رہے گا) اور (دوسری بات یہ ہے کہ) نہیں ظلم کیا جائے گا کسی بندہ پر ایسا ظلم جس پر وہ مظلوم بندہ صبر کرے، مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض بڑھا دے گا اس کی عزت (یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر فرمایا ہے کہ جب کسی بندہ پر ناحق کوئی ظلم کیا جائے، اور اس کو ستایا جائے، اور وہ بندہ صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی عزت و رفعت دنیا میں بھی بڑھائے گا) اور (تیسری بات یہ ہے کہ) نہیں کھولے گا کوئی بندہ سوال کا دروازہ مگر اللہ کھول دے گا اس پر فقر کا دروازہ (یعنی جو بندہ مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا پیشہ اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے کہ فقر و محتاجی اس پر مسلط ہوگی، گویا یہ تینوں اللہ کے ایسے اٹل فیصلے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ، میں ان پر قسم کھا سکتا ہوں۔ (اس کے بعد آپ نے فرمایا) اور جو بات میں ان کے علاوہ تم سے بیان کرنا چاہتا تھا، جس کو تمہیں یاد کر لینا اور یاد رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ دنیا چار قسم کے آدمیوں کے لئے ہے (یعنی اس دنیا میں چار طرح کے آدمی ہیں) ایک وہ بندے جن کو اللہ نے مال دیا ہے اور صحیح طریق زندگی کا علم بھی ان کو دیا ہے، پس وہ اس مال کے صرف و استعمال میں اللہ سے ڈرتے ہیں، اور اس کے ذریعہ صلہ رحمی (یعنی اپنے اعزہ و اقارب کے ساتھ سلوک اور ان کی ہمدردی) کرتے ہیں، اور اس میں جو عمل اور تصرف کرنا چاہئے اللہ کی رضا کے لئے وہی کرتے ہیں۔ پس ایسے بندے سب سے اعلیٰ و افضل مرتبہ پر فائز ہیں۔ اور (دوسری قسم) وہ بندے ہیں جن کو اللہ نے صحیح علم (اور صحیح جذبہ) تو عطا فرمایا ہے، لیکن ان کو مال نہیں دیا، پس ان کی نیت صحیح اور سچی ہے، اور وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں، کہ ہمیں مال مل جائے تو ہم بھی فلاں (نیک بندے) کی طرح اس کو کام میں لائیں (اور اللہ کی ہدایت کے مطابق وہ جن اچھے مصارف میں صرف کرتا ہے، ہم بھی ان ہی میں صرف کریں) پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (یعنی دوسری قسم کے ان لوگوں کو حسنِ نیت کی وجہ سے پہلی قسم والوں کے برابر ہی ثواب ملے گا)۔ اور (تیسری قسم) وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے مال دیا، اور اس کے صرف و استعمال کا صحیح علم (اور صحیح جذبہ) نہیں دیا، پس وہ نادانی کے ساتھ، اور خدا سے بے خوف ہو کر اس مال کو اندھا دُھند غلط راہوں میں خرچ کرتے ہیں، اس کے ذریعہ صلہ رحمی نہیں کرتے، اور جس طرح اس کو صرف و استعمال کرنا چاہئے اس طرح نہیں کرتے۔ پس یہ لوگ سب سے بُرے مقام پر ہیں۔ اور (چوتھی قسم) وہ لوگ ہیں، جن کو اللہ نے مال بھی نہیں دیا، اور صحیح علم (اور صحیح جذبہ) بھی نہیں دیا، پس ان کا حال یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، کہ اگر ہمیں مال مل جائے، تو ہم بھی فلاں (عیاش اور فضول خرچ) شخص کی طرح، اور اسی کے طریقے پر صرف کریں (یعنی اس شخص کی طرح ہم) بھی عیاش اور فضول خرچی کریں) پس یہی ان کی نیت ہے اور ان دونوں گروہوں کا گناہ برابر ہے (یعنی آخری قسم کے لوگوں کو ان کی بری نیت کی وجہ سے وہی گناہ ہو گا جو تیسری قسم کے لوگوں کو ان کے برے اعمال کا گناہ ہو گا۔ (جامع ترمذی)

تشریح
حدیث کے نفس، مطلب کی وضاحت ترجمہ کے ساتھ ساتھ کر دی گئی ہے، البتہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ برے عمل کی جس نیت پر گرفت ہے، اور جو گویا بُرے عمل ہی کی طرح گناہ ہے، وہ عزم کا درجہ ہے، یعنی بندہ کو اس گناہ کا شوق اور اپنی طرف سے اس کے کر گزرنے کا مصمم ارادہ ہو، چاہے کسی مجبوری کی وجہ سے پھر کر نہ سکے۔ پس جب کسی گناہ کی نیت اس درجہ کی ہوگی تو اس گناہ ہی کی طرح وہ بھی معصیت ہوگی، اور بندہ اس پر سزا کا مستحق ہو گا۔
Top