معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2020
عَنْ عُمَرَ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ (رَوَاهُ رزين)
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے حضرت ابو بکرؓ کا ذکر کیا گیا تو رونے لگے اور کہا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے تما عمر کے عمل ان کے ایام زندگی کے ایک دن کے عمل کے برابر اور ان کی زندگی کی راتوں میں سے ایک رات کے عمل کے برابر ہو جائیں (یعنی مجھ کو میری زندگی بھر کے اعمال کا اللہ تعالی وہ اجر عطا فرما دیں جو ابوبکرؓ کے ایک دن اور ایک رات کے عمل کا عطا ہوگا اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کی رات سے میری مراد وہ خاص رات ہے جب وہ حضور ﷺ کے ساتھ ہجرت کے سفر میں (اپنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق روپوشی کے ارادہ سے) غار (یعنی غارثور) کی طرف چلے تو جب غار کے پاس پہنچے (اور حضرت ﷺ نے غار کے اندر جانا چاہا) تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ خدا کی قسم آپ ابھی غار میں داخل نہ ہوں پہلے میں غار کے اندر جاؤں گا تو اگر وہاں کوئی موذی چیز ہوگی (مثلا درندہ یا سانپ بچھو جیسا زہریلا جانور) تو جو گزرے گی مجھ پر گزرے گی آپ محفوظ رہیں گے پھر ابوبکر غار کے اندر چلے گئے اس کی صفائی کی اس غار میں ایک طرف چند سوراخ نظر آئے تو اپنے تہہ بند میں سے پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں اور چیتھڑوں سے ان سوراخوں کو بند کیا۔ لیکن دو سوراخ باقی رہ گئے (تہبند میں سے جو کچھ پھاڑا تھا اس میں سے اتنا باقی نہیں رہا کہ ان دو سوراخوں کو بھی بند کیا جا سکتا) تو ابوبکرؓ نے ان دو سوراخوں میں اپنے دونوں پاؤں اڑا دیئے اس کے بعد حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں تو حضور ﷺ غار کے اندر تشریف لے گئے (رات کا بڑا حصہ گزر چکا تھا حضور ﷺ پر نیند کا غلبہ تھا) آپ ﷺ ابوبکرؓ کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے (اسی حالت میں) ابوبکرؓ کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا (اگرچہ اس کے زہر سے حضرت ابوبکرؓ کو سخت تکلیف ہونے لگی) لیکن اس اندیشہ سے کہ حضور ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے آپ بیدار نہ ہو جائیں اسی طرح بیٹھے رہے حرکت بھی نہیں کی یہاں تک کہ تکلیف کی شدت سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور حضور ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے (تو حضور ﷺ کی آنکھوں کھل گئی آپ ﷺ نے ابوبکرؓ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے تو) دریافت فرمایا کہ ابوبکرؓ تم کو کیا ہوا انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان مجھے سانپ نے کاٹ لیا آپ ﷺ نے (اسی جگہ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا) اپنا آب دہن ڈال دیا تو ابوبکرؓ کو جو تکلیف ہو رہی تھی وہ اسی وقت چلی گئی (آگے حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں) پھر (ابوبکرؓ کی وفات سے کچھ پہلے) اس زہر کا اثر لوٹ آیا اور وہی ان کی وفات کا سبب بنا (اس طرح انکو شہادت فی سبیل اللہ کی سعادت و فضیلت بھی نصیب ہو گئی) اور یہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ خیبر میں کھائے ہوئے زہر کا اثر قریبا چار سال کے بعد حضور ﷺ کی وفات کے قریب لوٹ آیا تھا اور وہی آپ ﷺ کی وفات کا سبب بنا تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے سفر ہجرت کی اس رات کے اس عمل کا ذکر فرمایا اس کے بعد اس دن کا اوراس دن کے حضرت ابوبکرؓ کے اس عمل کا ذکر فرمایا جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے ساری عمر کے اعمال ان کے ایک دن کے عمل کے برابر ہو جائیں اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ دن سے مراد ابوبکرؓ کی زندگی کا وہ دن ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ وفات فرما گئے اور عرب (کے بعض علاقوں کے لوگ) مرتد ہوگئے اور انہوں نے فریضہ زکات ادا کرنے سے انکار کردیا تو ابوبکر نے کہا کہ اگر وہ لوگون کا پاؤں باندھنے کی رسی (1) دینے سے بھی انکار کریں گے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا (حضرت عمر کہتے ہیں کہ) میں نے کہا اے خلیفہ رسول اللہ (اس وقت ان لوگوں کے ساتھ تالیف اور نرمی کا معاملہ کیجئے تو انہوں نے (غصہ کے ساتھ) مجھے فرمایا کہ تم زمانہ جاہلیت میں تو بڑے زور آور اور غصہ ور تھےکیا اسلام کے دور میں بزدل اور ڈرپوک ہو گئے ہو (یہ کیسا انقلاب ہے) وحی کا سلسلہ (حضور ﷺ کی وفات کے بعد) ختم ہو گیا، دین مکمل ہو چکا۔ کیا دین کو ناقص کیا جائے اس میں کمی کی جائے گی اس حال میں کہ میں زندہ ہوں۔ (یہ نہیں ہو سکتا)۔ (رزین)

تشریح
حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے جس قدر تشریح و توضیح کی ضرورت تھی وہ ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے، البتہ حضرت عمرؓ نے اپنے اس بیان میں مرتدین کے خلاف جہاد سے متعلق حضرت ابو بکرؓ کے جس پُر عزیمت فیصلہ اور اقدام کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں انکار جو خاتمہ کلام نقل فرمایا ہے (اينقص الدين وانا حى) اس کی تشریح اور وضاحت کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے عام اسباب کے لحاظ سے بڑی خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی تھی حضور ﷺ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے جو شکستہ دلی عام صحابہ میں پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے .... علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات ہی میں حضرت اسامہ کی .... قیادت میں ایک بڑی مہم پر ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا تھا۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد صدیق اکبرؓ نے فیصلہ فرمایا کہ آنحضرت کے حکم کے مطابق یہ لشکر بلاتاخیر روانہ ہو جائے، چنانچہ وہ روانہ ہو گیا اس طرح اس وقت کی فوجی طاقت کا ایک بڑا حصہ اس محاذ پر چلا گیا اس کے علاوہ حجاز مقدس کے قریب علاقے یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ کے آخری دور حیات ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ قبیلے اس کے ساتھ ہو گئے تھے، اس طرح ایک حکومت سی قائم ہو گئی تھی۔ صدیق اکبرؓ نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد فوراً فیصلہ فرمایا کہ اس فتنہ کو بھی جلد سے جلد ختم کیا جائے، چنانچہ خالد بن الولید کی قیادت میں اس کے لئے بھی ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا۔ انہی حالات میں حجاز ہی کے بعض علاقوں کے لوگوں نے (جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے) زکوٰۃ کی ادائیگی سے اجتماعی طور پر انکار کر دیا، صدیق اکبرؓ نے اس کو ارتداد قرار دیا اور اس کے خلاف بھی جہاد اور لشکر کشی کا فیصلہ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اس وقت کی ساری فوجی طاقت ان محاذوں پر چلی جاتی اور مرکز اسلام مدینہ منورہ کا حال یہ ہو جاتا کہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے یا آس پاس کے منافقین کوئی فتنہ برپا کر دیں تو اس کی مدافعت اور اس پر قابو پانے کے لئے فوجی طاقت موجود نہ ہو۔ اس لئے حضرت عمرؓ اور روایات میں ہے کہ ان کے ساتھ حضرت علیؓ کی بھی رائے تھی کہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس وقت زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے خلاف جہاد اور لشکر کشی نہ کی جائے، مصلحت اندیشی اور حکمت عملی کے طور پر ان کے معاملہ میں تالیف اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ کے دل میں یقین پیدا فرما دیا تھا کہ اس فتنہ ارتداد کا استیصال فوراً ضروری ہے، کسی مصؒحت اندیشی کے تحت اس کو نظر انداز کرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، زکوٰۃ دین کا اہم رکن ہے نماز ہی کی طرح گویا جزو ایمان ہے، اس کی ادائیگی سے انکار کو برداشت کرنے کا مطلب دین کی قطع و برید برداشت کرنا ہو گا آپ نے فرمایا دین مکمل ہو چکا ہے، وحی کا سلسلہ خمت اور منقطع ہو چکا ہے، رسول اللہ ﷺ نے دینی کو جس شکل و صورت میں چھوڑا ہے، اپنی جان دے کر بھی اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ اس سلسلہ کلام کے آخر میں آپ نے فرمایا "أَيَنْقُصُ الدِّيْنُ وَاَنَا حَىٌّ" صدیق اکبرؓ کے ان دو لفظوں سے دین کے ساتھ ان کے جس خاص الخاص عاشقانہ تعلق اور اس کی راہ میں قربانی اور فدائیت کے جس جذبہ کا اظہار ہوتا ہے، راقم سطور اپنی اردو زبان میں اس کے ادا کرنے سے عاجز ہے۔ اس واقعہ میں یہ نکتہ خاص طور سے قابل غور اور ہمارے لئے سبق آموز ہے کہ حضرت عمرؓ کی رائے حضرت ابو بکرؓ کے اس فیصلہ اور اقدام کے خلاف تھی بعد میں وہی فیصلہ ان کی نظر میں اتنا عظیم ہو گیا کہ اپنے زندگی بھر کے اعمال کو وہ حضرت ابو بکرؓ کے اسی ایک عمل سے کمتر سمجھنے لگے، اور اس کا برملا اعتراف فرمایا۔ رضى الله تعالى عنهما وارضاهما۔
Top