معارف الحدیث - کتاب المعاملات - حدیث نمبر 1819
عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا، فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
غصب (کسی دوسرے کی چیز ناحق لے لینا)
سائب بن یزید اپنے والد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے دوسرے بھائی کی لکڑی اور چھڑی بھی نہ لے نہ ہنسی مذاق میں اور نہ لینے کے ارادہ سے۔ پس اگر لے لیوے تو اس کو واپس لوٹائے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ کسی بھائی کی لکڑی اور چھڑی کی طرح کی حقیر اور معمولی چیز بھی بغیر اس کی مرضی اور اجازت کے نہ لی جائے، ہنسی مذاق میں بھی نہ لی جائی اور اگر غفلت یا غلطی سے لی گئی ہو تو واپس ضرور لوٹائی جائے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایسی معمولی چیز کا واپس کرنا کیا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی ان ہدایات کی اہمیت محسوس کرنے کی توفیق دے۔
Top