Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 140)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
معارف الحدیث - کتاب الایمان - حدیث نمبر 637
عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ - كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : « التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ » (رواه البخارى ومسلم)
تشہد
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حالت میں کہ میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا مجھے تشہد تعلیم فرمایا جس طرح کہ آپ قرآن مجید کی سورتیں تعلیم فرماتے تھے (آپ نے مجھے تلقین فرمایا): التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ الخ (ترجمہ) ادب و تعظیم اور اظہار نیاز کے سارے کلمے اللہ ہی کے لئے ہیں اور تمام عبادات اور تمام صدقات اللہ ہی کے واسطے ہیں (اور میں ان سب کا نذرانہ اللہ کے حضور میں پیش کرتا ہوں) تم پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (صرف وہی معبود برحق ہے)۔ اور میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور پیغمبر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ صحابہ کرامؓ کو جو کچھ سکھاتے اور بتاتے تھے اس میں سب سے زیادہ اہتمام قرآن مجید کی تعلیم کا فرماتے تھے، لیکن تشہد (التحیات) کی تعلیم و تلقین آپ نے اسی خاص الخاص اہتمام سے فرمائی جس اہتمام سے آپ قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ہاتھ اس وقت اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان پکڑنا بھی اسی سلسلہ کی ایک چیز تھی، اور طحاوی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ابن مسعودؓ کو بہ تشہد ایک ایک کلمہ کر کے تلقین فرمایا جس طرح کہ بچوں یا ان پڑھوں کو کوئی اہم چیز یاد کرائی جاتی ہے۔ اور مسند احمد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے عبداللہ بن مسعودؓ کو یہ تشہد تعلیم فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ دوسروں کو اس کی تعلیم دیں۔ تشہد، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے علاوہ حضرت عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور بعض اور صحابہ کرامؓ سے بھی مروی ہے، اور ان روایات میں ایک دو لفظوں کا بہت معمولی سا فرق بھی ہے لیکن محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ سند اور روایت کے لحاظ سے حضرت ابن مسعودؓ کے اس تشہد ہی کو ترجیح ہے، اگرچہ دوسری روایات بھی صحیح ہیں اور ان میں وارد شدہ تشہد بھی پڑھایا جا سکتا ہے۔ بعض شارحین حدیث نے ذکر کیا ہے کہ یہ تشہد شب معراج کا مکالمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب بارگاہ قدوسیت میں شرف حضوری نصیب ہوا تو آپ ﷺ نے نذرانہ، عبودیت اس طرح پیش کیا، اور گویا اس طرح سلامی دی: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، آپ ﷺ نے جوابا عرض کیا: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، اس کے بعد (عہد ایمان کی تجدید کے طور پر) مزید عرض کیا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ان شارحین نے لکھا ہے کہ نماز میں اس مکالمہ کو شب معراج کی یادگار کے طور پر جوں کا توں لے لیا گیا ہے، اور اسی وجہ سے السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ میں خطاب کی ضمیر کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں خود حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ تشہد میں السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ہم حضور ﷺ کی حیات طبیہ میں اس وقت کہا کرتے تھے جب آپ ہمارے ساتھ اور ہمارے درمیان ہوتے تھے، پھر جب آپ کا وصال ہو گیا تو ہم بجائے اس کے السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کہنے لگے۔ لیکن جمہور امت کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو لفظ تلقین فرمایا تھا (یا معراج کے مکالمہ والی مشہور عام روایت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لفظ ارشاد ہوا تھا) یعنی السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ حضور ﷺ کے وصال کے بعد بھی بطور یادگار اسی کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا، اور بلا شبہ ارباب ذوق کے لئے اس میں ایک خاص لطف ہے۔ اب جو لوگ اس صیغہ خطاب سے حضور ﷺ کے حاضر ناظر ہونے کا عقیدہ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کے متعلق بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ شرک پسندی کے مریض، نہایت ہی کور ذوق اور عربی زبان و ادب کی لطافتوں سے بالکل ہی ناآشنا ہیں۔
Top