معارف الحدیث - کتاب الایمان - حدیث نمبر 57
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّه عليه وسلم جاءه رجل فقال انى احدث نفسى بالشيى لَأَن يَكُون حُمَمَةً أحَبُّ إِليه من أن اَتَكَلَّمَ به، قَالَ الحمد للَّه الذي رَدَّ اَمْرَهُ إِلىَ الْوَسْوَسَةِ" (رواه ابو داؤد)
بعض منافقانہ اعمال و عادات
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: "کبھی کبھی میرے دل میں ایسے بُرے خیالات آتے ہیں کہ جل کر کوئلہ ہو جانا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اُن کو زبان سے نکالوں؟" آپ نے ارشاد فرمایا: "اللہ کی حمد اور اس کا شکر ہے جس نے اُس کے معاملہ کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے"۔ (ابو داؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ یہ غمگین اور فکر مند ہونے کی بات نہیں، بلکہ اس پر اللہ کا شکر کرو کہ اُس کے فضل و کرم اور اُس کی دستگیری نے تمہارے دل کو اُن برے خیالات کے قبول کرنے اور اپنانے سے بچا لیا ہے، اور بات وسوسہ کی حد سے آگے نہیں بڑھنے دی ہے۔
Top