Sunan Ibne-Majah 3263صحیح
تکیہ لگا کر کھانا
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً، فَجَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا.
عبداللہ بن بسر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا : بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٢٠٢، ومصباح الزجاجة : ١١٢١) ، وقد أخرج بعضہ : سنن ابی داود/الأطعمة ١٨ (٣٧٧٣) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یعنی دونوں زانو کھڑے کر کے بیٹھنا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے، آپ ﷺ نے اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند فرمایا۔
Abdullah bin Busr said: "I gave the Prophet ﷺ a gift of a sheep, and the Messenger of Allah ﷺ sat on his knees to eat. A Bedouin said: What is this sitting? He said: Allah has made me a humble and generous slave (of Allah) and has not made me arrogant and stubborn."