Sunan Ibne-Majah 2093ضعیف
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز کی قسم کھاتے ؟
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم یوں ہوتی تھی : لا وأستغفر الله ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٢ (٣٢٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٠٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو : المشکاة : ٣٤٢٣ )
وضاحت : ١ ؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بےقصد و ارادہ جاری ہوجائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ ﷺ نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ ﷺ یوں قسم کھاتے تھے : لا ومقلب القلوب اور صحیحین میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وأيم الله إن کان لخليقاً للإمارة یعنی، اللہ کی قسم ! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل (علیہ السلام) نے اللہ سے کہا : رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The swearing of the Messenger of Allah ﷺ was: No, and I ask Allah for forgiveness:" (Daif)