Sunan Ibne-Majah 1976صحیح
نکاح کرانے کے لئے سفارش کرنا
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اسامہ (رض) دروازہ کی چوکھٹ پر گرپڑے، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ان سے خون صاف کرو ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ ﷺ ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٩٦، ومصباح الزجاجة : ٧٠٠) ، وقد أخرجہ : ٦/١٣٩، ٢٢٢) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Usaman stumbled at the threshold of the door and cut his face, The Messenger of Allah ﷺ said: Remove the harm (the blood) from him: but I was repulsed by that. He started to suck the blood and remove it from his face, then he said: If Usamah were a girl, I would have adorned him and dressed him until I married him off. (Daif)