صحیح مسلم - فتنوں کا بیان - حدیث نمبر 1703
حدیث نمبر: 3979
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَكُونُ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ،‏‏‏‏ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ صِفْهُمْ لَنَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هُمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا،‏‏‏‏ يَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَالْزَمْ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ،‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ،‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا،‏‏‏‏ وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ،‏‏‏‏ وَأَنْتَ كَذَلِكَ.
گوشہ نشینی۔
حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے ، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آجائے ا ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٦)، صحیح مسلم/الإمارة ١٣ (١٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ٣٣٦٢) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یعنی جنگل میں جا کر عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مرنے تک ایک درخت کی جڑ چوسنے پر قناعت کرنا، اور ان سب فرقوں سے الگ رہنا ایسے فتنہ کے زمانے میں جب نہ تو کوئی مسلمانوں کا امام ہو نہ جماعت ہو بہتر اور باعث نجات ہے۔
Top