صحیح مسلم - سلام کرنے کا بیان - حدیث نمبر 4951
حدیث نمبر: 2986
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
صفامروہ کی سعی۔
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرنے میں اپنے اوپر میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، اور جو حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر گناہ نہیں، ان دونوں کی سعی کرنے میں اگر بات ویسی ہوتی جو تم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: فلا جناح عليه أن يطوف بهما اگر سعی نہ کرے تو (اس پر گناہ نہیں ہے) بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری ہے، وہ جب لبیک پکارتے تو منات (جو عربوں کا مشہور بت تھا) کے نام سے پکارتے، ان (کے اپنے اعتقاد کے مطابق ان کے) کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حلال نہ تھا تو جب وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: إن الصفا والمروة صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، ان کے درمیان سعی کرنا گناہ نہیں (جیسا کہ تم اسلام سے پہلے سمجھتے تھے) اور قسم ہے کہ جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کی، اللہ تعالیٰ نے اس کا حج پورا نہیں کیا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١٦٨٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣)، العمرة ١٠ (١٧٩٠)، تفسیر البقرة ٢١ (٤٤٩٥)، تفسیر النجم ٣ (٤٨٦١)، صحیح مسلم/الحج ٤٣ (١٢٧٧)، سنن ابی داود/الحج ٥٦ (١٩٠١)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٦٩)، سنن النسائی/الحج ١٦٨ (٢٩٧٠)، موطا امام مالک/الحج ٤٢ (١٢٩)، مسند احمد (٣/١٤٤، ١٦٢، ٢٢٧) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: تو سعی واجب ہے اور ارکان حج میں سے ہے، مالک، احمد، اسحاق، ابو ثور اور اہل حدیث وغیرہ کا یہی قول ہے۔
Top