سنن ابنِ ماجہ - مشروبات کا بیان - حدیث نمبر 1505
حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِيإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِلرَّجُلِ فِي النَّخْلِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مِنَ الْأَسْفَلِ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَرِيمٌ لَهَا.
درخت کا حریم
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے؟ تو اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا: ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے ۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٧، ومصباح الزجاجة: ٨٧٨) (صحیح) (سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول ہیں، اور ان کی عبادہ ؓ سے روایت میں انقطاع ہے کیونکہ عبادہ ؓ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے: ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٥٠ )
Top