مسند امام احمد - حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔ - حدیث نمبر 2002
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا فِي السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ سورة سبأ آية 23 قَالَ:‏‏‏‏ فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا إِلَى الَّذِي تَحْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ الْكَاهِنِ أَوِ السَّاحِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّمَا لَمْ يُدْرَكْ حَتَّى يُلْقِيَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَصْدُقُ تِلْكَ الْكَلِمَةُ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ .
جہیمیہ کے انکار کے بارے میں
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی تابعداری میں بطور عاجزی اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، جس کی آواز کی کیفیت چکنے پتھر پر زنجیر مارنے کی سی ہوتی ہے، پس جب ان کے دلوں سے خوف دور کردیا جاتا ہے تو وہ باہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں: اس نے حق فرمایا، اور وہ بلند ذات والا اور بڑائی والا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: چوری سے باتیں سننے والے (شیاطین) جو اوپر تلے رہتے ہیں اس کو سنتے ہیں، اوپر والا کوئی ایک بات سن لیتا ہے تو وہ اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، بسا اوقات اس کو شعلہ اس سے پہلے ہی پا لیتا ہے کہ وہ اپنے نیچے والے تک پہنچائے، اور وہ کاہن (نجومی) یا ساحر (جادوگر) کی زبان پر ڈال دے، اور بسا اوقات وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملاتا ہے تو وہی ایک بات سچ ہوتی ہے جو آسمان سے سنی گئی تھی ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ١ (٤٨٠٠) التوحید ٣٢ (٧٤٨١)، سنن ابی داود/الحروف والقراء ات ١ (٣٩٨٩)، سنن الترمذی/التفسیر ٣٥ (٣٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٩) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اس حدیث سے بھی واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ بلندی پر ہے، اس کے احکام اوپر ہی سے نازل ہوتے ہیں، پس احکم الحاکمین اوپر ہی ہے، اور نیچے والے فرشتے اوپر کے درجہ والوں سے پوچھتے ہیں: کیا حکم ہوا؟ وہ ان کو جواب دیتے ہیں کہ جو حکم اللہ تعالیٰ کا ہے وہ حق ہے، اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بڑی عظمت اور ہیبت واضح ہوتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے باوجود قرب، نورانیت اور معصومیت کے اس قدر اللہ تعالیٰ سے لرزاں و ترساں ہیں تو ہم کو بدرجہا اس سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔
Top