صحیح مسلم - سلام کرنے کا بیان - حدیث نمبر 2521
حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَقُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَقُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ.
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم ﷺ پہ سلام بھیجے اور کہے:اللهم افتح لي أبواب رحمتک اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم ﷺ پہ سلام بھیجے، اور کہے: اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٢، ومصباح الزجاجة: ٢٩١) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: مسجد سے نکلتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی وجہ ہے، ابن السنی نے روایت کی ہے کہ تم میں سے جب کوئی مسجد سے نکلنا چاہتا ہے تو ابلیس کے لشکر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کی طرح جو شہد کے چھتے پر جمع ہوتی ہیں جمع ہوجاتے ہیں، پھر جب تم میں سے کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو تو کہے: یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ابلیس اور اس کے لشکر سے جب یہ کہے گا تو اس کو نقصان نہ ہوگا۔
Top