Sunan Ibne-Majah 2689ضعیف
کسی مرد کو جان کی امان دیدی پھر قتل بھی کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ، فَقَالَ: قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِيَ السَّاعَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلَّا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُفَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ.
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا : جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ١ ؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد (رض) سے سنی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
تخریج دارالدعوہ : حدیث رفاعة تقدم تخریجہ بمثل الحدیث السابق (٢٦٨٨) ، وحدیث سلیمان بن صرد، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٥٧٠ (الف) ، ومصباح الزجاجة : ٩٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٩٤) (ضعیف) (سند میں ابولیلیٰ اور أبوعکاشہ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٢٢٠٠ )
وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ رسالت کا دعوی کر رہا تھا۔
It was narrated that Rifaah said: “I entered upon Mukhtar in his palace and he said: ‘Jibril has just left me. Nothing stopped me from striking his neck (i.e., killing him) but a Hadith that I heard from Sulaiman bin Surad, according to which the Prophet ﷺ said: If a man trusts you with his life, then do not kill him. That is what stopped me."