Sunan Ibne-Majah 3049صحیح
مناسک حج میں تقدیم وتاخیر۔
حدیث نمبر: 3049
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا يُلْقِي بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا لَا حَرَجَ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جب بھی اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے حج کے کسی عمل کو دوسرے پر مقدم کردیا، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یہی اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٤) ، الحج ١٢٥ (١٧٢٣) ، ١٣٠ (١٧٣٥) ، الأیمان ١٥ (٦٦٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٩٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٥٧ (١٣٠٧) ، سنن ابی داود/الحج ٧٩ (١٩٨٣) ، سنن النسائی/الحج ٢٢٤ (٣٠٦٩) ، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٦٩، ٢٩١، ٣٠٠، ٣١١، ٣٢٨) (صحیح )
. It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was never asked about someone who had done one thing before another, but he would gesture with both his hands to say: There is no harm in that."