Sunan Ibne-Majah 3028صحیح
کتنی بڑی کنکریاں مارنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 3028
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَةٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.
سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ (ام جندب الازدیہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کے پاس ایک خچر پر سوار دیکھا، آپ فرما رہے تھے : لوگو ! جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارو تو ایسی ہوں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آجائیں ۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/المناسک ٧٨ (١٩٦٦، ١٩٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥٠٣، ٥/٢٧٠، ٣٧٩، ٦/٣٧٩) (حسن) (اس سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )
It was narrated from Sulaiman bin Amr bin Ahwas that his mother said: "I saw the Prophet ﷺ on the Day of Sacrifice, at Aqabah" Pillar, riding a mule. He said: O people! When you stone the Pillar, throw small pebbles. (Daif)