سورہ تکاثر کی تفسیر
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، (وہ یہ ہیں) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا؟ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ضحاک، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمٰن بن عرزب کے، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتا ہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٥١١) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (539)، المشکاة (5196)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3358
Sayyidina Abu Huraryah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The first thing about which one will be questioned on the Day of Resurrection-meaning, the slave about blessings. It will be said, ‘Did we not give you a sound, healthy body and quench your thirst with cool water.’This Hadith is gharib. As for Dahhak, he was Ibn Abdur Rahman ibn Arzab but it is also said : Ibn Arzam and this latter is more correct.
Top