Sunan Ibne-Majah 1547صحیح
قبرستان میں جانے کی دعا
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں : السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بکم لاحقون نسأل الله لنا ولکم العافية اے مومن اور مسلمان گھر والو ! تم پر سلام ہو، ہم تم سے انشاء اللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ٣٥ (٩٧٥) ، سنن النسائی/الجنائز ١٠٣ (٢٠٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٩٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٣، ٣٦٠) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولکم وأنتم سلفنا ونحن بالأثر یعنی سلام ہو تمہارے اوپر اے قبر والو ! اللہ ہم کو اور تم کو بخشے، تم ہمارے اگلے ہو، اور ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach them, when they went out to the graveyard, to say: (peace be upon you, a inhabitants of the abodes, believers and Muslims, and we will join you soon if Allah wills. We ask Allah for well-being for us and for you). (Sahih)