مسند امام احمد - حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 1232
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،‏‏‏‏ عن عكرمة، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ،‏‏‏‏ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُهُ،‏‏‏‏ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا.
خوشامد کا بیان۔
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات ١٦ (٢٦٦٢)، الأدب ٩٥ (٦١٦٢)، صحیح مسلم/الزہد ١٤ (٣٠٠٠)، سنن ابی داود/الأدب ١٠ (٤٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١، ٤٦، ٤٧، ٥٠) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی میں یہ نہیں جانتا کہ حقیقت میں اللہ کے نزدیک یہ کیسا ہے؟ میرے نزدیک تو اچھا ہے، حدیثوں کا یہی مطلب ہے کہ منہ پر کسی کی تعریف نہ کرے، یہ بھی اس وقت جب اس شخص کے غرور میں پڑجانے کا اندیشہ ہو، ورنہ صحیحین کی کئی حدیثوں سے منہ پر تعریف کرنے کا جواز نکلتا ہے، اور نبی اکرم نے احد پہاڑ سے فرمایا: تھم جا، تیرے اوپر کوئی نہیں ہے مگر نبی اور صدیق اور شہید اور اس وقت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ حاضر تھے، اور بعضوں نے کہا: کراہت اس وقت ہے جب مدح میں مبالغہ کرے اور جھوٹ کہے، اور بعضوں نے کہا اس وقت مکروہ ہے جب اس سے دنیاوی کام نکالنا منظور ہو، اور یہ تعریف غرض کے ساتھ ہو، واللہ اعلم۔
Top