Sunan Ibne-Majah 359صحیح
استنجا کے بعد ہاتھ زمین پر مل کر دھونا
حدیث نمبر: 359
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ الْغَيْضَةَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَاسْتَنْجَى مِنْهَا، وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ.
جریر بن عبداللہ بجلی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ درختوں کی ایک جھاڑی میں داخل ہوئے، اور قضائے حاجت کی، جریر (رض) آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن لے کر آئے تو آپ ﷺ نے اس سے استنجاء کیا، اور اپنا ہاتھ مٹی سے رگڑ کر دھویا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطہارة ٤٣ (٥١) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٠٧) ، وقد أخرجہ : دی/الطہارة ١٦ (٧٠٦) (حسن) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ابراہیم کا سماع ان کے والد جریر بن عبد اللہ بجلی (رض) سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : اوپر کی حدیث نمبر : ٣٥٨ ، و صحیح ابی داود : ٣٥ )
وضاحت : ١ ؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح سے صاف ہوجائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل اور ختم ہوجائے۔
Ibrahim bin Jarir narrated from his father that the Prophet ﷺ of Allah entered a thicket and relieved himself, then Jarir brought him a small water skin from which he cleaned himself, then he wiped his hand in the dirt.