صحیح مسلم - تفسیر کا بیان - حدیث نمبر 1433
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ:‏‏‏‏ قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا.
مزدلفہ میں قیام کرنا۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آسکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٤٤)، سنن النسائی/الحج ٢٠٤ (٣٠٢٤)، ٢١٥ (٣٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٥ (٨٨٦)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: وادی محسر: منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جس میں اصحاب فیل پر عذاب آیا تھا، جو یمن سے کعبہ کو ڈھانے اور اس کی بےحرمتی کے لیے آئے تھے۔
Top