Sunan Ibne-Majah 717ضعیف
اذان کا مسنون طریقہ
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الِإفْرِيقِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ.
زیاد بن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال (رض) نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے ۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٠ (٥١٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٢ (١٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ٠ ٣٣٧ )
It was narrated that Ziyád bin Hârith As-Sudâ’i said: “I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and he commanded me to call the Adhân. Bilál wanted to call the lqdrnah, but the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The brother of Sudá’ called the Adhan, and the one who calls the Adhan is the one who calls the Iqamah.” (Da’if)