Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (2566 - 2636)
Select Hadith
2566
2567
2568
2569
2570
2571
2572
2573
2574
2575
2576
2577
2578
2579
2580
2581
2582
2583
2585
2586
2587
2588
2589
2590
2591
2592
2593
2594
2595
2596
2597
2598
2599
2600
2601
2602
2603
2604
2605
2606
2607
2609
2610
2611
2612
2613
2614
2615
2617
2618
2619
2620
2621
2622
2623
2624
2625
2626
2627
2628
2629
2630
2631
2632
2634
2635
2636
صحيح البخاری - لباس کا بیان - حدیث نمبر 7118
عن سلمة بن الأكوع قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزال الرجل يذهب بنفسه حتى يكتب في الجبارين فيصيبه ما أصابهم رواه الترمذي
تکبر نفس کا دھوکہ ہے
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے نفس کو برابر کھینچا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا نام سرکشوں یعنی ظالم اور متکبر لوگوں کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے اور پھر جو چیز دنیا و آخرت کی آفت و بلا ان سرکشوں کو پہنچتی ہے وہی اس شخص کو بھی پہنچتی ہے۔ (ترمذی)
تشریح
لفظ بنفسیہ میں حرف باء اگر تعدیہ کے لئے ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ اپنے نفس کو اوپر اٹھاتا ہے خود کو بلند مرتبہ سمجھ کر لوگوں سے دور رکھتا ہے اور اپنے آپ کو ہر ایک کے مقابلہ پر بزرگ و برتر جانتا ہے اور اگر حرف باء مصاحبت کے لئے ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ اپنے نفس کے دھوکے میں مبتلا ہو کر اس کے ساتھ کبر و غرور کی طرف بڑھتا ہے اس کو عزت دیتا ہے اور اس کی تعظیم و توقیر کرتا ہے جیسا کہ دوست دوست کی تعیظیم و توقیر کرتا ہے یہاں تک کہ وہ متکبر و مغرور ہوجاتا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے نفس کے دھوکے میں پڑ کر خود بینی و خود ستائی کا شکار ہوجاتا ہے تو اپنے آپ کو اپنے اصل مرتبہ و مقام سے اوپر اٹھا کر بڑے مرتبہ و مقام تک پہنچا دینے کی کوشش کرتا ہے نفس اس کو جس طرح مصنوعی بڑائی کی طرف بہکاتا رہتا ہے جدھر لے جانا چاہے ادھر جاتا ہے اور نفس پر قابو پانے کے بجائے خود اس کے قابو میں ہوجاتا ہے یہاں تک کہ تکبر اور سرکشی میں پوری طرح مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کے لئے دنیا و آخرت کا وہ عذاب مقدر ہوجاتا ہے جو سرکشوں کے لئے مخصوص ہے۔
Top