صحيح البخاری - فضائل قرآن - حدیث نمبر 5044
حدیث نمبر: 5044
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ سورة القيامة آية 1، ‏‏‏‏‏‏لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ‏‏‏‏ 16 ‏‏‏‏ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ ‏‏‏‏ 17 ‏‏‏‏ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ ‏‏‏‏ 18 ‏‏‏‏ سورة القيامة آية 16-18 فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ.
قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ قرآن کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور (اور دوسرا) قول وقرآنا فرقناہ لتقرائہ علی الناس علی مکث ترتیل سے پڑھنے کی دلیل ہے، شعروں کی طرح جلد جلد نہ پڑھا جائے، امام بخاری لفظ یفرق کی تفسیر تفصیل سے کی ہے، اور ابن عباس نے فرقناہ کی تفسیر فصلناہ سے کی ہے
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان لا تحرک به لسانک لتعجل به‏ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں۔ بیان کیا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوجاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورة لا أقسم بيوم القيامة‏ میں ہے، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل (علیہ السلام) آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا کہ تیرے دل میں جما دینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Regarding His (Allahs) Statement:-- Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith. (75.16) And whenever Gabriel (علیہ السلام) descended to Allahs Apostle ﷺ with the Divine Inspiration, Allahs Apostle ﷺ used to move his tongue and lips, and that used to be hard for him, and one could easily recognize that he was being inspired Divinely. So Allah revealed the Verse which occurs in the Surah starting with "I do swear by the Day of Resurrection. (75.1) i.e. Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste then with. It is for Us to collect it (in your mind) ( O Muhammad ﷺ ) an give you the ability to recite it by heart. (75.16-17) which means: It is for us to collect it (in your mind) and give you the ability to recite it by heart. And when We have recited it to you ( O Muhammad ﷺ ) through Gabriel (علیہ السلام) then follow you its recital. (75.18) means: When We reveal it (the Quran) to you, Listen to it. for then: It is for Us to explain it and make it clear to you (75.19) i.e. It is up to Us to explain it through your tongue. So, when Gabriel (علیہ السلام) came to him, Allahs Apostle ﷺ would listen to him attentively, and as soon as Gabriel (علیہ السلام) left, he would recite the Revelations, as Allah had promised him.
Top