صحيح البخاری - غزوات کا بیان - حدیث نمبر 4339
حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ سَعْدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ،‏‏‏‏ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِوَرُبَّمَا قَالَ:‏‏‏‏ بِحُكْمِ الْمَلِكِ.
باب: غزوہ احزاب سے نبی کریم ﷺ کا واپس لوٹنا اور بنو قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بنو قریظہ نے سعد بن معاذ ؓ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ یا (آپ ﷺ نے یوں فرمایا) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چناچہ سعد ؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کردیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ (یعنی اللہ) کا حکم تھا۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): The people of (Banu) Quraiza agreed to accept the verdict of Sad bin Muadh. So the Prophet ﷺ sent for Sad, and the latter came (riding) a donkey and when he approached the Mosque, the Prophet ﷺ said to the Ansar, "Get up for your chief or for the best among you." Then the Prophet ﷺ said (to Sad)." These (i.e. Banu Quraiza) have agreed to accept your verdict." Sad said, "Kill their (men) warriors and take their offspring as captives, "On that the Prophet ﷺ said, "You have judged according to Allahs Judgment," or said, "according to the Kings judgment."
Top