Sunan Abu Dawood 2873صحیح
یتیم کتنی عمر کے بچہ کو کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہوگیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠١٦٠) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عبادت کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاموشی کا روزہ رکھتے اور دوران خاموشی کسی سے بات نہیں کرتے تھے ، اسلام نے اس طریقہ عبادت سے منع کردیا ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: I memorised (a tradition) from the Messenger of Allah ﷺ : There is no orphanhood after puberty, and there is no silence for the whole day till the night.