سنن ابنِ ماجہ - لباس کا بیان - حدیث نمبر 2374
حدیث نمبر: 3649
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود ؓ ہیں اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ١ ؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٧) (تحفة الأشراف: ٢٩٢٠) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: یعنی خود نبی اکرم ، اس میں آپ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ شکل و صورت سے ابراہیم (علیہ السلام) سے مشابہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1100)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3649
Top