Sunan Abu Dawood 2726صحیح
جو شخص غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا
حدیث نمبر: 2726
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْحَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ: إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ، وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنِّي أُبَايِعُ لَهُفَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، وَلَمْ يَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا : بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ١ ؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٦٨٤) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : عثمان (رض) بدر میں شریک نہیں ہو سکے، کیونکہ آپ کی اہلیہ رقیہ (رض) جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ہیں ان ایام میں سخت بیمار تھیں اسی وجہ سے ان کی دیکھ ریکھ کے لئے انہیں رکنا پڑگیا تھا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ stood up, i. e. on the day of Badr, and said: Uthman has gone off on the business of Allah and His Messenger, and I shall take the oath of allegiance on his behalf. The Messenger of Allah ﷺ then allotted him a share, but did not do so for anyone else who was absent.