Sunan Abu Dawood 2529صحیح
والدین کی مرضی کے بغیر جہاد میں شرکت
حدیث نمبر: 2529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُجَاهِدُ ؟ قَالَ: أَلَكَ أَبَوَانِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْعَبَّاسِ: هَذَا الشَّاعِرُ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ.
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کروں ؟ آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں دونوں میں جہاد کرو ١ ؎ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٣٨ (٣٠٠٤) ، والأدب ٣ (٥٩٧٢) ، صحیح مسلم/البر ١ (٢٥٤٩) ، سنن الترمذی/الجھاد ٢ (١٦٧١) ، سنن النسائی/الجھاد ٥ (٣١٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٥، ١٧٢، ١٨٨، ١٩٣، ١٩٧، ٢٢١) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان کی خدمت کرکے جہاد کا ثواب حاصل کرو۔
Abdullah bin Amr said “A man came to the Prophet ﷺ and said “Messenger of Allah ﷺ , May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them. ” Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Abbas, a poet, is al-Saib bin Farrukh.