Sunan Abu Dawood 4281صحیح
قتل ہونے میں کیا امید کی جائے
حدیث نمبر: 4281
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا ؟ قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ.
اس سند سے بھی جابر بن سمرہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ ﷺ اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا : پھر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : پھر قتل ہوگا ۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢١٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٩٢) (صحیح) (اس میں : فلما جمع کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے )
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir bin Samurah through a different chain of narrators. This version adds: When he came back to his home. the Quraish came to him and said: Then what will happen ? He said: Then turmoil will prevail.