Sunan Abu Dawood 5194صحیح
سلام کی کثرت کا حکم
حدیث نمبر: 5194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٦ (١٢) ، ٢٠ (٢٨) ، والاستئذان ٩ (٦٢٣٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٩) ، سنن النسائی/الإیمان ١٢ (٥٠٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١ (٣٢٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٢٧) ، وقد أخرجہ : حم (٢/١٦٩) (صحیح )
Abdullah bin Amr said: A man asked the Messenger of Allah ﷺ : When aspect of Islam is best? He replied: that you should provide food and greet both those you know and those you do not know.